ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک اسمبلی میں متنازعہ انسداد گؤ کشی بل پاس؛ اپوزیشن کے احتجاج اور عوامی جذبات کو کیا گیا نظر انداز

کرناٹک اسمبلی میں متنازعہ انسداد گؤ کشی بل پاس؛ اپوزیشن کے احتجاج اور عوامی جذبات کو کیا گیا نظر انداز

Thu, 10 Dec 2020 14:12:48    S.O. News Service

بنگلورو،10دسمبر(ایس او نیوز)کرناٹک میں اپنے ہندوتواور عوام و کسان مخالف ایجنڈا کو نافذ کرنے کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ریاستی بی جے پی حکومت نے اپوزیشن کانگریس  اور جےڈی ایس کے احتجاج کے باوجود اور عوامی اعتراضات کو پس پُش ڈال کر  اسمبلی میں غیر متوقع طور پر”انسداد گؤ کشی بل“ بڑی چالاکی سے منظور کروالیا- قبل اس کے کہ اپوزیشن کواس کی بھنک ہوتی، ایوان میں وزیر برائے مویشی پالن پربھو چوان اور وزیرقانون جے سی مادھو سوامی نے انسداد گؤ کشی بل 2020پیش کردیا اور بڑی تیز رفتاری کے ساتھ اپوزیشن کے ہنگامہ کے درمیان بل پاس کرالیا،جس کے تحت ریاست میں اب گؤ اور اس کی نسل میں شامل جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد رہے گی- البتہ وہ بھینس جس کی عمر13سال سے زیادہ ہو اس کے ذبیحہ کی اجازت دی گئی ہے- 

ریاستی اسمبلی میں پیش کئے گئے اس قانو ن میں گؤ کشی قانو ن کو پامال کرنے کے مرتکب افراد پر 50ہزار روپے سے 3لاکھ روپے کا جرمانہ اور 3سال سے 7سال تک کی قید ہوگی- اس قانون کے تحت پولیس سب انسپکٹر کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی جگہ پہنچ کر انسداد گؤ کشی کے شبہ میں گوشت کی تلاشی لے سکے اور اگر گوشت یا دیگر اشیاء پائی گئیں تو اس کیلئے ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کرے - اس قانون کے تحت ریاست میں کسی بھی شخص کو کسی بھی مقصد، رواج یا استعمال کیلئے مویشیوں کے ذبیحہ کی اجازت نہیں ہو گی- 

ریاست میں بجز زراعت دیگر مقاصد کیلئے مویشیوں کے نقل و حمل پر پابندی عائد کردی گئی ہے - اگر نقل و حمل کی ضرورت بھی ہو تو وہ صرف مرکزی حکومت کی طرف سے منظور شدہ پرونشن آف کریولٹی ٹو انیملس قانون 1960کے تحت کی جائے گی- ریاست میں ذبیحہ کے مقصد کیلئے مویشیوں کی خریدو فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے - پولیس سب انسپکٹر کے درجے کے آفیسر کو اگر یہ شبہ ہے کہ اس قانون کو پامال کیا گیا ہے تو اسے یہ اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی مقام کی تلاشی لے سکتا ہے - اس مقام سے جو بھی ضبطی ہو گی اس کی اطلاع سب ڈیویژنل مجسٹریٹ کو دی جانی ہو گی - اگر مجسٹریٹ اس بات پر مطمئن ہو جائیں کہ واقعی جرم سرزد ہوا ہے تو وہ ضبط شدہ اشیاء بشمول گاڑیاں وغیرہ دوہری بینک ضمانت کے عوض لے جانے کی اجازت دے سکتے ہیں - جو مویشی ضبط کئے جائیں گے ان کو سرکاری یا رضاکار اداروں کی طرف سے چلائے جانے والے گؤ شالاؤں کو منتقل کردیا جائے-

 اگر کسی جگہ کو جانوروں کے ذبیحہ کیلئے استعمال میں لایا جا رہا ہے تو مجسٹریٹ کو یہ اختیار ہے کہ اس جگہ کو ضبط کریں لیکن اس معاملہ میں ملزموں کو بھی ان کا موقف رکھنے کا موقع دیا جائے - انسداد گؤ کشی کے معاملات سے نپٹنے کیلئے حکومت نے ایک خصوصی عدالت قائم کرنے کا اس قانون کے تحت اعلان کیا ہے - اس عدالت کے حکم کو اگر کوئی چیلنج کرنا چاہے تو حکم کے 30دنوں کے اندر سیشن عدالت سے رجوع کر سکتا ہے- اس قانون کو پامال کرنے والوں کو 3سال سے 7سال تک کی سزائے قید اور 50ہزار روپے سے 5لاکھ روپے تک کا جرمانہ لاگو کیا جائے گا - دوسری یا اس سے آگے ہوئے والی پامالیوں کیلئے سزا ئے قید7 سال کی ہو گی اور جرمانہ ایک لاکھ روپے سے 5لاکھ روپے تک ہوگا-

اگر اس معاملہ میں ملزم اگر مجرم پایا جاتا ہے تو اس کے پاس سے ضبط شدہ تمام املاک کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے گا- مویشیوں کے ذبیحہ میں ساتھ دینے والوں کیلئے بھی اس قانون کے تحت سزا اور جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے - قانون کے تحت اس بھینس کے ذبیحے کی اجازت دی گئی ہے جس کی عمر 13سال سے زائد ہو اور اس کے ذبیحہ کیلئے ویٹرنری آفیسر کی طرف سے اجازت دی گئی ہو - اس کے علاوہ ان مویشیوں کو ذبح کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کا ذبح کرنا عوامی صحت کی حفاظت کیلئے ضروری ہو جائے - ایسے مویشیوں کو بھی ذبح کرنے کی اجازت ہو گی جو کسی مہلک مرض کا شکار ہوں یا ان کے زندہ رہنے سے دیگر مویشیوں کو خطرہ لاحق ہو - اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے محکمہ دفاع کی ملکیت میں آنے والے مویشیوں کے ذبیحے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی- لیکن اس کیلئے انڈین آرمی کے ویٹرنری آفیسر کی تصدیق لازمی ہے-اس قانون کے خلاف ایوان میں اپوزیشن بالخصوص کانگریس کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں اس قانون کی منظوری کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کیا جا رہا ہے-


 انسداد گؤ کشی بل  کے اہم نکات 

1۔ گائے اور اس کی نسل(بیل،بچھڑا) میں شامل جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی
2۔ ذبیحہ کے مقصد کیلئے مویشیوں کی خریدو فروخت پر پابندی
3۔ ریاست میں بجز زراعت دیگر مقاصد کیلئے مویشیوں کے نقل و حمل پر پابندی
4۔ 13سال سے زیادہ عمر والی بھینس کے ذبیحہ کی اجازت
5۔ قانو ن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 50ہزار روپے سے 3لاکھ روپے کا جرمانہ اور 3سال سے 7سال تک کی قید
6۔ پولیس سب انسپکٹر کو تفتیش،تلاشی اور کارروائی کا اختیار
7۔ انسداد گؤ کشی کے معاملات سے نپٹنے کیلئے ایک خصوصی عدالت کے قیام کا اعلان
8۔ ذبیحہ میں ساتھ دینے والوں کو بھی سزا اور جرمانہ


Share: